Weather (state,county)

GHAZAL KO YAROON NE HUJRA BNA LIA HOWA HAY


غزل
غزل کو یاروں نے حُجرہ بنا لیا ہوا ہے
اور اپنے شعر کو خُطبہ بنا لیا ہوا ہے

پتہ نہیں یہاں بہروپئے زیادہ ہیں
یا صُوفیوں نے یہ حُلیہ بنا لیا ہوا ہے

عجیب لوگ ہیں خُود سوچنے سے عاری ہیں
روایتوں کو عقیدہ بنا لیا ہوا ہے

خریدنے چلا آیا ہے آفتاب مرا
کسی نے برف کا سکہ بنا لیا ہوا ہے

ضرور یہ کوئی ناپاک سا تعلق ہے
جو شیخ و شاہ نے رشتہ بنا لیا ہوا ہے

وُہ رنگ و نُور ہے لیکن بنانے والوں نے
یہاں تو اُس کا بھی چہرہ بنا لیا ہوا ہے

میرا طواف زمیں سے ہے آسمان تلک
اسی کو حج، یہی عُمرہ بنا لیا ہوا ہے

پرندے کُچھ بھی ہوں جھُوٹی خبر نہیں لاتے
فقیہِ شہر نے پنجرہ بنا لیا ہوا ہے

زمین والے نے اُجڑی زمین کے اُوپر
نئی زمین کا نقشہ بنا لیا ہوا ہے

اب آنسوؤں کی یہ دیوار بھی نہ گر جائے
لہو نے آنکھ میں رستہ بنا لیا ہوا ہے
Powered by Blogger.