Weather (state,county)

Ishq e Pechan Ki Sandal Per

شق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ھے

حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ھے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ھے

ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ھوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ھے
Powered by Blogger.