Weather (state,county)

ISHQ ME KAM KOI SHIDDAT NAI KI JASAKLTI

                                             غزل
عشق میں کم کوئی شدت نہیں کی جا سکتی
ورنہ مُجھ سے تو محبت نہیں کی جا سکتی


تھرتھرانا تو ہے شُعلے کی روایت پیارے
ترک مُجھ سے یہ روایت نہیں کی جا سکتی


کیا کسی اور کو دیکھا بھی نہیں جا سکتا
کیا کسی اور پہ حیرت نہیں کی جا سکتی

چاہیئے اب کسی حجرے کا بیابان مُجھے
ورنہ کھُل کر کوئی وحشت نہیں کی جا سکتی

دیکھ سکتا نہیں ہر وقت میں تیری جانب
مُجھ سے ہر وقت عبادت نہیں کی جا سکتی

شور اندر کا لپٹ جاتا ہے شنوائی سے
مُجھ سے باہر کی سماعت نہیں کی جا سکتی

اب تو ہر سال پتہ اُس کا بدل جاتا ہے
وُہ جو کہتا تھا کہ ہجرت نہیں کی جا سکتی

آئینہ اپنی خراشوں پہ تو بُجھ سکتا ہے
سنگ ریزوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی

کرنا پڑ جائے اگر دل کے اندھیرے میں قیام
صاحبِ نُور سے حُجّت نہیں کی جا سکتی

میری مٹی کو تُو مٹی سے بدل سکتا ہے
اس سے کم تو میری قیمت نہیں کی جا سکتی
Powered by Blogger.