Weather (state,county)

Mujhe Ab Kuch Nahin Kehna


محبت ہجر کی دہلیز پر
دو جاگتی آنکھوں میں ٹھہرا اشک ہے
اک ایسا اشک
جس میں وصل کا سپنا لرزتا ہے
کہ جیسے حوض کے پانی میں بھیگا عکس
جھلمل خواب کا منظر
کسی کی ارغوانی اوڑھنی پر جھلملاتا سا ستارہ
یا کسی خواہش کا تنہا سا جزیرہ
جس کے چاروں سمت پانی ہے
اور اس پانی میں جتنے سیپ ہیں

سب موتیوں والے
مگر وہ خیرہ کن موتی کہاں سب کے مقدٌر میں
یہ سب باتیں
تمہیں ملنے پہ مجھ کو
تم سے کہنا تھیں
مگر جاناں ! تمہیں دنیا کے دھندوں سے
کہاں فرصت
مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو
جب تم کو فرصت ہو
تو میں کہہ دوں
مجھے اب کچھ نہیں کہنا
Powered by Blogger.