Weather (state,county)

SORAJ SA KOI SHAM SE PHELE HI GIR GAYA

                                           غزل
سُورج سا کوئی شام سے پہلے ہی گر گیا
میں اپنے اختتام سے پہلے ہی گر گیا


روتی ہوئی ہوا نے خبر دیر تک پڑھی
اک چاند اپنے بام سے پہلے ہی گر گیا


اے رابطے کو توڑنے والے ستارہ زاد
یہ گھر ترے قیام سے پہلے ہی گر گیا

حُجرے میں لا چھُپایا ہے تُو نے چراغِ راہ
تُو یا ر کے مقام سے پہلے ہی گر گیا

یکتا کے سامنے مری یکتائی جا پڑی
سجدے میں مَیں امام سے پہلے ہی گر گیا

کہنا تو تھا کہ خُوش ہوں تُمھارے بغیر بھی
آنسو مگر کلام سے پہلے ہی گر گیا

اک ہاتھ تھا دراز رضا سُوئے آسمان
جو میرے انہدام سے پہلے ہی گر گیا
Powered by Blogger.