Weather (state,county)

SUN AE FALK ME TERI KHAMOSHI SE DARTA HON

                                                غزل
سُن اے فلک مَیں تیری خامشی سے ڈرتا ہوں
زمیں کے شور میں پھر ہر کسی سے ڈرتا ہوں


یہ آنکھ شہر کی بُنیاد میں لگی ہوئی ہے
مَیں رونا چاہتا ہوں اور نمی سے ڈرتا ہوں


یہ حادثے بھی عجب ہیں سمجھ نہیں پاتے
یہاں مَیں موت نہیں، زندگی سے ڈرتا ہوں


تُو آئینے کی طرح ہے مرے غنیم مُجھے
ترے بغیر مَیں بے چہرگی سے ڈرتا ہوں


نہا گیا ہوں خُود اپنے لہو میں اور ابھی
یہ سُن رہا ہوں کہ اِس روشنی سے ڈرتا ہوں


اسے تو کوئی بھی حیرت لگا کے لے جائے
مَیں اپنی آنکھ کی بے رہروی سے ڈرتا ہوں


وُہ کس کا خوف تھا جس نے مُجھے دلیر کیا
کسی سے ڈرتا نہیں، بُزدلی سے ڈرتا ہوں

Powered by Blogger.