Weather (state,county)

Tum ko Hum Khaknashinoo Ka Khayal Aaney Tak...


  • تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
    شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک

    دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
    بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک

    صبح ہوئی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
    قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک

    پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
    یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک

    میں نے ہر چند بلا ٹالنی چآہی لیکن
    شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک

    وہ بھی کیا دن تھے گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
    اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک

    میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
    جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک

    باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
    اور اگر ہم نے رہے فصلِ بہار آنے تک

    اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
    کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک

    اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
    شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے
    تک
Powered by Blogger.